ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں تیر حبّا تہوار روایتی جوش و خروش کے ساتھ اختتام پزیر

بھٹکل میں تیر حبّا تہوار روایتی جوش و خروش کے ساتھ اختتام پزیر

Mon, 11 Apr 2022 12:52:58    S.O. News Service

بھٹکل ،11؍ اپریل (ایس او نیوز) بھٹکل کا مشہور و معروف رتھ اتسوا  المعروف تیر حبّا  اتوار کو روایتی جوش و خروش کے ساتھ اختتام پزیر ہوا جس میں ہزاروں بھکتوں نے شرکت کی ۔
    
ہنومان چن پٹن دیوستھان  سے رتھ  کو بازار سے گزارنے کی رسم شروع ہونے سے قبل مندر انتظامیہ کے ذمہ داروں نے حسب معمول بھٹکل کے مسلم چیرکن گھرانے کے ذمہ داروں کے پاس پہنچ کر انہیں رتھ اتسوا میں شرکت کی دعوت دی ۔ اس کے بعد عصر چار بجے بھکتوں نے رتھ کو سڑکوں پر رسیوں کی مدد سے گھسیٹتے پھول بازار، مین روڈ اور کار اسٹریٹ سے واپس مندر کے احاطہ میں پہنچایا ۔
    
اس موقع پر مندر انتظامیہ کمیٹی کے صدر شریدھر موگیر، رکن شیو رام نائک ، رکن اسمبلی سنیل نائک ، سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا ، سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک ، وغیرہ موجود تھے ۔ 
    
رتھ اتسوا میں ہزاروں لوگوں کی شرکت کے پیش نظر کسی انہونی کو روکنے کے مقصد سے پولیس نے سخت حفاظتی بندوبست کیا تھا  اور تیر کو کھینچنے کی رسم شروع ہونے سے پہلے  پولس نے مارچ فاسٹ کرتے ہوئے   ماری کٹہ پہنچ کر الگ الگ ناکوں پر پہنچ گئے تھے۔

ہندو مسلم بھائی چارگی کی مثال:   مندر کمیٹی کا وفد جب سلطان اسٹریٹ میں واقع چیرکن ہاوس پہنچا تو وہاں  گھر کے مکین  انصاری شاہ بندری سمیت عنایت اللہ شاہ بندری اور جیلانی شاہ بندری نے  وفد کا استقبال کیا، اس موقع پر مندر کمیٹی کے صدر شری دھر موگیر نے  انصاری شاہ بندری کو پھول اور پھل پیش کرتے ہوئے  شال اوڑھ کر ان کی تہنیت کی، اس موقع پر عنایت اللہ شاہ بندری نے بتایا کہ پوری ریاست میں  مخصوص شدت پسند تنظیموں کی طرف سے   مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،  مسلمانوں سے کاروبار نہ کرنے، مسلمانوں کے آٹو پر سوار نہ ہونے اور مسلمانوں کو مندروں کے اطراف اور تہواروں کے موقعوں پر دکانیں وغیرہ  لگانے کی اجازت نہ دینے  وغیرہ  جیسی اپیلیں کی جارہی ہیں،ا یسے میں   بھٹکل کے ہندو بھائی مسلمانوں کے گھر پر آکر تہوار کی اجازت طلب کرتے ہیں اور مسلمانوں کو تہوار میں  شریک ہونے کی دعوت دیتے ہیں، اورمسلمان بھی یہاں ہندو مسلم بھائی چارگی کو فروغ دینے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں، انہوں نے مندر کمیٹی کے ذمہ داران کی تعریف کرتے ہوئے   دعوت نامے پرشکریہ ادا کیا اور ایسی ہندو مسلم بھائی چارگی کی مثال نہ صرف پورے کرناٹک بلکہ ملک بھر میں   عام کرنے کی  ضرورت پر زور دیا۔
 


Share: